کاکا شهيد تمانخېل Kaka Shaheed Tmankhel/Utmankhel



#جنگ_شیدو_نوشھرہ_1823ء

ہمارے آبا واجداد میں بڑے بڑے بزرگ، غازی اور شہید گزرے ہیں۔ جنھوں نے اسلام کی سربلندی اپنے وطن کی آزادی،دفاع اور اپنے قوم کے حفاظت کے خاطر دشمنوں کے ساتھ جنگوں میں  ایسی بہادری اور جوھر دیکھائے ھے۔ جسے سن کر آج بھی ھمارا سر فخر سے بلند ہوتاھے۔ اور جن کے بہادری کا  ذکر دشمنوں نے اپنے تاریخ میں لکھ رکھا ھے۔ لیکن بدقسمتی سے ھم نے ان کو بھلا دیا ھے۔ ان گمنام شہیدوں میں ایک نام  "کاکا شہید" اتمانخیل -عمر خیل " ملاخیل"  لوئر دیر اسںبنڑ گاؤں بوچکی کا ھے ۔جہاں ان کے اولاد کی تعداد اب  ہزاروں میں ہے۔ اور اپنے مالکانہ حقوق کے ساتھ یہاں ابادہے۔

"کاکا شہید رح" نے  مولانا ملابابا عمر خیل کے گھر آنکھیں کھولے۔ آپ کے والد مولانا ملابابا  اعلیٰ پایہ کے عالم تھے۔ اور  دور دراز علاقوں تک آپ کے علم کے چرچے تھے ۔اور  مشھور عالم دین محترم عبدالرحمان باباجی - عمرخیل ۔  ملاخیل ۔امبار اتمان خیل کے نسب سے تھے۔

کاکا شہید بچپن سے ہی انتہائی سخی ، دیانتدار ، سچے ، اور کھرے انسان تھے۔گاوں کے سب بچوں کو اکٹھا کرکے کھانا کھلانا اور تعلیم وترتیب کے نشست کروانا آپ کا معمول تھا۔

کاکا شہید رح بہت بڑے عالم اور فاضل تھے۔اور دین اسلام کے داعی تھے۔اپ نے اپنے ابتدائی اسلامی علوم اپنے والد محترم مولانا ملابابا سے حاصل کی۔ اور علم کے اعلیٰ درجات کے حصول کےلئے آپ نے دور دراز علاقوں کے سفر کئے۔اپ جوانی کے جوبن پر تھے۔ اور علم کے حصول میں سرگردان اور  مشغول تھے۔ کہ اس زمانے میں سکھوں کے جانب سے پختونوں کے علاقوں  پر حملے شروع کئے گئے۔اورسکھ دریا سندھ پار کرنے کوشش کرتے رہے۔

اورخرکار جب 17مارچ 1823 عیسوی میں سکھ سامراج اٹک تک آ پُہنچے۔, تو اسی اثناء میں ملاکنڈ ڈویژن سے ہزاروں یوسفزئی اور آتما نخیل قبائلی لشکر  نوشہرہ شیدو کے مقام پر سکھوں کے خلاف لڑائی میں حصہ لینے کے لئےروانہ ہوگئے.

اس جنگ میں اتمانخیلوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ اور ملاکنڈ ڈویژن کے سب علاقوں سے جید علماء کے زیر سایہ لشکر روانہ ہوگئے۔ان میں قابل ذکر لوئر دیر کے

 کاکا شہید رح اور ان کا لشکر تھا۔

 کاکا شہید نے جب  سکھ حملہ آوروں کے خلاف لڑنے کا فیصلہ کیا۔اور گھر سے شھادت کی آرزو لئے جہاد کےلئے روانہ ہونے لگے۔تو اس کا اظہار اپنی چاچی سے کردیا۔ کہ شھادت میری آرزو ہے۔ اور میں چاہتا ہوں کہ شھادت کا رتبہ حاصل کرلو۔ آپ کا یہ جوش اور جذبہ دیکھ کر چاچی سمجھ گئی کہ اب یہ شھادت کے بغیر گھر لوٹنے والا نہیں  تو آپ  نے کاکا شہید رح کے بازو پر گھر کا مکمل پتہ تعویذ کے شکل میں باندھ دیا۔ تاکہ بعد از شھادت گھر کا پتہ معلوم ھو۔

 آپ  کے علم بہادری اور جذبہ ایمانی کو دیکھتے ہوئے اس  وقت کے  لشکر نے آپ کو اپنا قائد چن لیا۔اور آپ کا لشکر آپ کے طرح بہادر ثابت ہوا ۔ 

جنگ چڑھتی ہے,  

اپ کے زیر قیادت لشکر نے اور آپ نے سکھوں کے ساتھ لڑائی میں بڑے پیمانے پر سکھ حملہ آوروں کو واصل جہنم کیا۔ اور تھکے  ہارے بغیر لڑتے رہے اور آگے بڑھتے رہے۔چونکہ آپ کے ساتھ جذبہ ایمانی اور دل میں آرزو شھادت تھی۔ اس لئےسکھ تربیت یافتہ اور مسلح فوج آپ کے سامنے بےبس تھی۔ لیکن جب سکھ حملہ آوروں نے آپ کا جذبہ ور ولولہ دیکھا تو وہ سمجھ گئے۔کہ جب تک آپ کو شہید نہ کیا جائے تو اس  کو  قابو کروانا ناممکن ہے۔سکھوں نے چال چلی اور  آپ پر پیچھے کے طرف سے گروپ کے شکل میں حملہ اور ہوئے۔اپ کے شھادت کے بعد آپ کے لشکر کا حوصلہ ٹوٹ گیا اور تتر بتر ہوگئے۔ سکھوں نے آپ  کو قابو کرکے شھید کردیا۔ اور اس طرح کاکا شہید رح نے جنگ شیدو میں نوشھرہ   "شیدو" کے مقام پر شھادت پائی اور شھادت کے منصب پر فائز ہوئے ۔اپ کے شھادت  کے بعد سکھوں نے آپ کا سر مبارک تن سے جدا کرکے اپنا کلیجہ ٹھنڈا کیا۔جب سر تن سے جدا ہونے کے باوجود بہت دیرتک آپ کے بدن سے روح نہ نکلی۔اور جسم میں روح موجود رہی۔تو سکھ اس پر اور بھی سیخ پا ہوگئے۔اور آپ کی بے حرمتی پر اتر آئے۔

 آپ کے جسم مبارک پر غلاظت پھینک کر اپنا غصہ ٹھنڈا کیا۔

سکھ  میجر  راؤرٹی کے مطابق دس ہزار یوسفزئی اور اتمان خیل جنگِ شیدو میں مارے ( شہید) ہوجاتے ہیں..کیونکہ سردارانِ پشاور یار محمد خان وغیرہ غداری کرتےہے .اور اس طرح سکھوں کو فتح حاصل ہوتی ہے. 

 مہارجہ رنجیت سنگھ کے فوج نے گاؤں کے گاؤں جلا کر مسلمانوں کے بستیوں کو ملایا میٹ کیا۔اور علاقے کے پشتون مکینوں پر ظلم کی انتہا کردی۔ مویشیاں چھین لی ۔اناج چھین لیا کھڑی فصلوں کو تباہ کردیا۔

اور اس طرح ظلم و بربریت کی داستانیں رقم کیں۔ مختلف علاقوں  میں بے گناہ لوگوں کا قتل عام  کیا گیا۔لوگوں کے روزگاریں چھین لے گئے۔عورتوں، بوڑھوں، بچوں، مریضوں کسی کو بھی معاف نہ کیا۔مساجد شہید کردیے گئے ۔الغرض سکھ جتنا ظلم کر سکتے تھے۔ا س میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی۔ 

  جنگ کے اختتام کے بعد بازوں پر موجود پتے سے 

  کاکا شہید کی شناخت ہوگئی ۔ آپ کو "  بیل " پر لیٹاکر تن سے جدا سر کے ساتھ  واپس لوئر دیر لاکر آپ کےابائی گاؤں میں انتہائی عزت و احترام کے ساتھ سپرد خاک کیا گیا۔گاوں کے لوگوں نے شہید کے جنازے کا شدت سے انتظار اور استقبال کیا۔جس مقبرے میں آپ کو سپرد خاک کیا گیا ہے۔ وہ آج بھی آپ کے نام"  کاکا شہید رح " سے منسوب ہے۔

  اج آپ کے اولاد کی تعداد ہزاروں میں ھے۔ جو لوئر دیر ، سوات۔ ملاکنڈ ، اور مردان میں آباد ھے۔

  جو اعلیٰ تعلیم یافتہ ہے۔ اور فوجی و سول محکموں میں اعلیٰ منصبوں پر فائز ہے۔اور قوم کے خدمت کو اپنا فریضہ سمجھ کر کرتے ہیں۔

   کاکا شہید کے رتبے اور قربانی کی وجہ سے لوگ آج بھی آپ کے اولاد کو بڑے عقیدت اور احترام سے پیش آتے ہیں۔ آپ کی اولاد ، زائرین اور عقیدت مندوں کا آپ کے مزار پر  آنا جانا رہتا ہے ۔ اکثر لوگ آپ کے مزار پر حاضری اپنے لئے باعثِ فخر اور تبرک سمجھتے ہیں ۔

کمال کی بات یہ ھے کہ آپ کی عقیدت اور احترام کی وجہ سے کاکا شہید رح کے مقبرے پر موجود درختوں کو تو کاٹنا دور کی بات کوئی ٹہنی بھی نہیں توڑتا۔

بلاگ کا مقصد اپنے ہیروز سے اپنےنئے نسل کو روشناس کرانا ھے۔

 الله تعالیٰ کاکا شہید رح کی شہادت قبول اور درجات بلند فرمائے ۔امین یارب العالمین



#KakaShaeed #Kaka_Shaheed_Tmankhel

Post a Comment

1 Comments

  1. ماشاءالله
    الله تعالیٰ دی جنت الفردوس نصیب کی آمین
    ددے پختنے زمکی دپارہ ئے لویہ قربانی کڑی دہ۔

    ReplyDelete